مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، المیادین ٹی وی کے نامہ نگار نے اسرائیلی فوج کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ اس نے جنوبی لبنان کے شہر النبطیہ کے مشرق میں واقع اسٹریٹجک علی الطاہر پہاڑی پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
نامہ نگار کے مطابق، اس حوالے سے پھیلائی جانے والی خبریں حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ اسرائیلی قابض حکومت کا پروپیگنڈا ہیں۔
یہ تردید ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیلی فوج نے آج دعوی کیا تھا کہ اس نے علی الطاہر پہاڑی پر قبضہ کر لیا ہے اور اب حزب اللہ اس مقام سے اسرائیل کے لیے کوئی خطرہ پیدا نہیں کر سکے گی۔
اسرائیلی فوج نے اپنے دعووں کو دہراتے ہوئے حزب اللہ کو دھمکی بھی دی اور کہا کہ اب زمینی صورت حال تبدیل ہو چکی ہے۔
دوسری جانب ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنگ بندی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے علی الطاہر کی بلندیوں کی جانب اپنی پیش قدمی جاری رکھی ہے اور بعض مقامات پر کھدائی اور عسکری مورچوں کو مضبوط بنانے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔
ادھر آج صبح النبطیہ الفوقا پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد شہید ہو گئے، جبکہ دوپہر کے وقت اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے علاقے المجیدیہ، الماری اور عین عرب کے سنگم پر 4 افراد کو اغوا کر لیا۔
اس کے علاوہ بیت یاحون کے علاقے پر اسرائیلی توپ خانے کی گولہ باری کا سلسلہ بھی جاری رہا، جبکہ ایک فضائی حملے میں قبرخیا کے علاقے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
آپ کا تبصرہ